رنجش

0
30
رنجش

یہ رنجش رہی دل میں اس ہار کی
جو امید لگائی تھی اس دلکش بہار کی
دے رہے تھے تانے جز باتوں کے سمندر
چھپ کے جو گم ہوے اندر ہی اندر
خوابوں کو میرے سدا تعبیر تھی تیری

اب کون سی قیمت جو رہی تھی میری؟
گلشن میں اب بھی رہی تھی تیری مہک
وہ کیا تھا نکلنا تیرا؟ بات وہ سنہری
جس شفق سے شمشادؔ بکھرتا گیا ہے
آنسوؤں کا یہ ہجوم نکھرتا گیا ہے

Editor's Note

The Kashmir Pulse is now on Google News. Get latest news updates by subscribing to our Telegram handle or join our WhatsApp Group!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here