بندوق اٹھاکر زمانہ دہشتگرد کہتا ہے جسے
اہل وطن کی نظر میں ہے وہ مجاہدِ آزادی۔

زمانہ کچھ بھی کہہ دے گاہار کر تیری لڑائی سے
تو بس کہہ دینا میں ہوں اپنے وطن کا سپاہی ۔

نہ سن تو زمانے کا نہ ڈر انکے کے ارادوں سے
اٹھا دو آواز خلاف انکے تو جنکی کرتاہے غلامی۔

نہیں آسان ہے نکلنا اِن ظلم کی زنجیروں سے
کہ لڑتا ہے طاغوت سے اک نہتا ہوا سپاہی۔

نہ کر پروا زندگی کا تمہیں لڑنا ہے ہتھیاروں سے
یقین محکم رکھ تو فتح کا بس اللہ جوہے تیرا ہادی۔

شہیدوں کے خون کا بدلہ آج لے ان کفاروں سے
ُُ توُ رکھوالا بن بہنوں کا جنہوں نے اپنی عصمت دی۔

پکارے گی زمین تم کو زرخیز ہوں میں اُس خون سے
گرا یا تھا تو نے جو لڑائی میں وطن نے جس کی گواہی دی۔

یوں لکھا ہے امتیازؔ نے جو کچھ بھی امید رکھ کر اللہ سے
کہ لوٹے گا مجاہد غازی بن کے پا کرمنز لِ آزادی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here