سناہے بہت ہی حسین تھی کبھی یہ وادی کشمیر
ُحُسن ایسا تھا اُسکا کہ لوگ کہتے تھے جنت بے نظیر۔

وہ چمکتے پھولوں کی خوشبو وہ پہاڈوں کے دلکش مناظر
یہ سبزہ زار وادی تھی تب آج خون سے ہے سیر۔

وہ جوان جو اُچھلتے تھے کبھی کھیل کے میدانوں میں
آج قبرستان میں پڑے ہیں اُنکے لاشوں کے ڈھیر۔

تعلیم کی بینائی سے روشناس کرنا تھا جن جوانوں کو
پیلٹ سے پڑا ہے آج اُن کی آنکھوں میں اندھیر۔

وہ وادی جہاں راج کرتے تھے کبھی ریشیان و صوفیان
جابرانہ قبضہ کر کے آج تخت پہ بیٹھی ہے یہاں حکومتِ غیر۔

ماں سے چھین کر اُن بچوں کو شہید کر دیا ہے ظالموں نے آج
پیار سے کبھی جن کو ماں بلاتی تھی سکول جانے میں ہوگیا دیر۔

فیصلہ کرنے آتے ہیں ٹولیاں بُلاکر یہاں آج غیر یوں
سمجھ کر نادان شاید ہے یہ وادی اُن کے باپ دادا کی جاگیر۔

تماشا دیکھتی ہے دنیا آج یہاں کے ظلم و ستم سے امتیازؔ
بھولے شاید کہ چاہت تھی کبھی کرنے کو یہاں اِک سیر۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here