Home Literature Poems شرارت ہے

شرارت ہے

0
108
شرارت ہے

یہ تیری نظر کیا شرارت ہے
جیسے ہرے پتو کی عمارت ہے۔

بے رکُھی ارد گرد دایرے میں
تیری یاد میں کیسی قرارت ہے

ہے فقت دلِ ناداں کی معصوم جزبات
کیوں تیرے لہو میں یہ حرارت ہے؟

ہر سو شدت مجھے کھینچ کر صنم
کیوں تیری نگاہ میں یوں مہارت ہے؟

مدہوش میرے احساس انگنت ہے بے سبب
تیری یاد میں اک الگ ہی شرارت ہے

Follow Us

The Kashmir Pulse is now on Google News. Subscribe our Telegram channel and Follow our WhatsApp channel for timely news updates!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here