
اس کی آنکھیں شراب جیسی تھی،
ان میں گہرے وہ خواب رکھتا تھا
اردوئ لہجہ و زباں شیریں،
دل میں الفت کا باب رکھتا تھا
جس پہ ہر دل نثار ہو جائے،
رخ پہ ایسا شباب رکھتا تھا
نہ لگے اس کو اس جہاں کی نظر،
رخ پہ اپنے نقاب رکھتا تھا
دورِ فرقت میں جو ستم تھے سہے،
ان دنوں کا حساب رکھتا تھا
جن سوالوں سے جان جاتی تھی،
ان کا ہر سو جواب رکھتا تھا
آنکھ میں اس کے تھی عجب سی نمی،
دل میں غم کا نصاب رکھتا تھا
پھر اسے شاعری بھی آتی تھی،
دل کا خانہ خراب رکھتا تھا
طرزِ دنیا سے آشنا تھا بہت،
ساری باتیں سراب رکھتا تھا
اپنے وعدوں سے پھر گیا، عمل
جو وفا کا خطاب رکھتا تھا
Follow Us
The Kashmir Pulse is now on Google News. Subscribe our Telegram channel and Follow our WhatsApp channel for timely news updates!










