غزل

0
72
GHAZAL

کچھ تو ہے جو چھپا رہا ہے وہ
یوں ہی نہیں پھر یاد آ رہا ہے وہ

میں جھوٹ بھی بولوں تو کیا ہوا
کون سا وعدہ سچا نبھا رہا ہے وہ

بے خودی کا زمانہ گزر نہ جائے کہیں
جام اپنے ہاتھوں سے پلا رہا ہے وہ

کیوں ہمیں ناز ہے انکی وفا پہ
وفا کے نام پہ ہمیں ستا رہا ہے وہ

میرا ایماں کامل گر نہیں تو کیا ہوا
پھر بھی مجھے اپنے در پہ جھکا رہا ہے وہ

ALSO READ
MAN SPEAKS TO GOD

میں اب یقین کا بھی یقین کیوں کروں
سب کے سامنے مجھے اپنا بتا رہا ہے وہ

ترکِ تعلق ہوا تو کیا ہوا
احسان آج بھی اپنے جتا رہا ہے وہ

وہ دعا قضا ہونے کو تھی میں نے مانگ لی
ہر شئی چھوڈ کے میرے حصّے میں آ رہا ہے وہ

Editor's Note

The Kashmir Pulse is now on Google News. Get latest news updates by subscribing to our Telegram handle or join our WhatsApp Group!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here