
عنوان نہیں ہے کچھ لکھنے کو
آنسوں ہجوم میں ہیں بکھر نے کو
یہ باغبان ہے صبح سے تھکا ہوا
یہ گل وکلیاں ہیں اب نکھر نے کو
مجھ سے ہار چکے ہیں میرے جزبات
یہ صرف روح ہے وہ بھی نکلنے کو
ہیں ساتھی جان و دل کے بہت قریب
اپنی راہ میں وہ اب سبھی نکلنے کو
وحشت پاچکی ہے میری اک گلستان وادی
گویا شمشادؔ بھی ہے اب نکلنے کو
Follow Us
The Kashmir Pulse is now on Google News. Subscribe our Telegram channel and Follow our WhatsApp channel for timely news updates!










